مرتضی برلاس

مرتضی برلاس

یہ جو دل میں پالی ہیں خواہشیں، بڑی چاہ سے بڑے چاؤ سے

    یہ جو دل میں پالی ہیں خواہشیں، بڑی چاہ سے بڑے چاؤ سے ہیں کنارِ آب کی بستیاں، جو نہ بچ سکیں گی کٹاؤ سے مری زندگی میں جب آئی ہے یہ شدید رُت تو کہاں گئے وہ جو گرمیوں میں تھے چھاؤں سے، تھے جو سردیوں میں الاؤ سے ؎ نظر آنے والے جو زخم تھے چلو وہ تو بھر دیئے وقت نے ؎مگر ان کا کیسے علاج ہو جو لگے ہیں روح میں گھاؤ سے یہ جو تو نے تند ہواؤں میں، کیا نصب خیمہئ آرزو کہیں یہ نہ ہو کہ طنابِ جاں تری ٹوٹ جائے تناؤ سے مجھے کی گئی ہے یہ پیش کش کہ سزا میں ہوں گی رعایتیں جو قصور میں نے نہیں کیا، وہ قبول کر لوں دباؤ سے کیا کوچ جس نے بھی دن چڑھے وہ سفر میں پیچھے ہی رہ گیا بڑھا فاصلہ یوں ہی دم بدم، پڑا فرق کتنا پڑاؤ سے مری زندگی کی جو ناؤ ہے وہ سمندروں کے سفر میں ہے کبھی ناؤ اُلجھی ہے موج سے، کبھی موج اُلجھی ہے ناؤ سے ہمیں کیسے اس کا یقین ہو، یہ دیارِ اہلِ شعور ہے کہ صحیفے علم کے بک رہے ہیں یہاں تو ردّی کے بھاؤ سے فنِ نقدِ شعر و سخن میں اب انہیں اِستناد ملا جنہیں نہ سمجھ زبان کے لوچ کی، نہ غرض ہے فکری رچاؤ سے