مرتضی برلاس

مرتضی برلاس

یوں اچانک ترا مائل بہ وفا ہو جانا

    اور پھر وہ بھی توقع سے سوا ہو جانا کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ رویہ کیا ہے ملتفت ہونا کبھی خود ہی خفا ہو جانا دیکھ اے حرفِ تمنا وہ اگر سامنے آئے جم نہ جانا مرے ہونٹوں پہ ادا ہو جانا گھات میں شست لیے بیٹھا ہے دشمن کب سے معجزہ سمجھو، نشانے کا خطا ہو جانا تجربہ جب ہوا پھر بات سمجھ میں آئی سنتے آئے تھے بندوں کا خدا ہوجانا نشہ لعنت ہے اگر پھر تو ہے لعنت یہ بھی اختیارات کا انساں کو نشہ ہو جانا دیکھو نا! پھنس گیا خود جال بچھانے والا اِس کو کہتے ہیں فقیروں کا کہا ہو جانا