مرتضی برلاس

مرتضی برلاس

رویے اجنبی اور بام و در انجان لگتے ہیں

    رویے اجنبی اور بام و در انجان لگتے ہیں ہم اپنے ہی گھر میں رہتے ہیں مگر مہمان لگتے ہیں نہ منظر میں ہے تبدیلی نہ پس منظر بدلتا ہے ہے قصہ ایک ہی جس کے کئی عنوان لگتے ہیں میں اربابِ سیاست کو وطن دشمن نہیں کہتا مگر یہ دوست ایسے ہیں کہ جو نادان لگتے ہیں ہمارا نام لکھ لکھ کر مٹانے کا یہ مطلب ہے ہمیں برباد کرنے کے بڑے ارمان لگتے ہیں ہے گر دریا میں خموشی اسے پایاب مت جانو تہِ امواج کچھ سوئے ہوئے طوفان لگتے ہیں درختوں سے نہیں رونق تو انسانوں سے ہوتی ہے یہ جنگل ہیں سروں کے جو ہمیں ویران لگتے ہیں جو آنکھیں نم نہ ہوتیں، غم سے پھر پتھر اگئی ہوتیں اِن آنکھوں پر بھی اشکوں کے بہت احسان لگتے ہیں سماعت سے اگر پہلے سزا تجویز کر لی ہو دلائل بے گناہی کے تو پھر بے جان لگتے ہیں