مرتضی برلاس

مرتضی برلاس

حرفِ بے باک سے بے ساختہ پن سے اپنے

    حرفِ بے باک سے بے ساختہ پن سے اپنے ہم نے دی جرأتِ اظہار سخن سے اپنے ہیں نئے پودوں کی جو نشوونما میں حائل جھاڑیاں چھانٹنی ہوں گی وہ چمن سے اپنے حال کا غم ہے، نہ فردا کی کوئی فکر انہیں یہ گلہ ہم کو ہے، اربابِ وطن سے اپنے آج کے دور میں بھی عارض و لب کی باتیں کیا توقع رکھیں، دانائے سخن سے اپنے ظلم جیسا بھی ہو، تا دیر نہیں چل سکتا جب کفن باندھ لیں، مظلوم بدن سے اپنے پھول کو توڑ کے گلدان سجانے والو کیا یہی تم کو محبت ہے چمن سے اپنے کبھی مقطع نہ کہا، اورنہ تخلص رکھا اپنی پہچان ہے اسلوبِ سخن سے اپنے