مرتضی برلاس

مرتضی برلاس

جب کبھی وہ دینے والا موج میں آجائے ہے

    جب کبھی وہ دینے والا موج میں آجائے ہے دے کے پھر آسودگی، بندے کو پرکھا جائے ہے کوئی تو مے خوار ایسا ہو کہ آپے میں رہے ٹھوکریں کھا کے تو سب کو ہی سمجھ آ جائے ہے جتنا ہم آدابِ محفل میں سمٹتے جائے ہیں اتنا وہ بیگانہئ آداب پھیلا جائے ہے آپ کا خنجر ہماری گردنوں پر ہو تو، خیر ہم اگراُف بھی کریں تو ظلم سمجھا جائے ہے جادۂ تائید اپنائیں کہ راہِ اختلاف بدگمانی کی طرف، ہر ایک رستہ جائے ہے پیچ ایسا ہے پتنگوں کا کوئی کٹتی نہیں ڈور کا اب تو سرا ہاتھوں سے نکلا جائے ہے ان کو آنکھیں مت کہو، چہرے پہ دو دھبے کہو ورنہ اتنا ظلم کب آنکھوں سے دیکھا جائے ہے