جو دشمنِ جاں ہم کو مٹانے میں لگے ہیں
-
جو دشمنِ جاں ہم کو مٹانے میں لگے ہیں ان لوگوں کے ہم ناز اٹھانے میں لگے ہیں گردن ہے کہ اب تن سے جدا ہونے لگی ہے اور ہم ہیں کہ دستار بچانے میں لگے ہیں مسمار تو کرسکتے ہو پل بھر میں یہ لیکن برسوں ہمیں اس گھر کو بنانے میں لگے ہیں مانا کہ ہوا تیز مگر دکھ ہے تو یہ ہے پروانے بھی اب شمع بجھانے لگے ہیں اس حبس میں نیند اڑ گئی آنکھوں سے مگر آپ فردا کے حسیں خواب دکھانے میں لگے ہیں وہ لوگ جو محرومِ سماعت ہیں انہی کو ہم قصۂ غم اپنا سنانے میں لگے ہیں