مرتضی برلاس

مرتضی برلاس

میں بھی کیسا اداکار ہوں دوستو

    غم کے چہرے پہ خوشیوں کا غازہ ملے، ساری دنیا کو اب تک ہنساتا رہا ساری دنیا کی خوشیوں میں شامل رہا، اپنے غم کو میں سب سے چھپاتا رہا جب بھی اظہارِ غم کی ضرورت ہوئی، زیرِ لب میرؔ کے شعر گاتا رہا یوں تو تعزیرِ اخفائے غم کے لیے، میں نے مانا سزاوار ہوں، دوستو! تم کو یہ بات تو ماننا ہی پڑی، میں بھی کیسا اداکار ہوں دوستو! میرے اوصاف کی بات جب بھی چھڑی برملا اس کی تائید کرتا رہا اپنی کوتاہیوں کی ہر اک بات پر، میں پُر زور تردید کرتا رہا اپنے چاکِ گریباں میں جھانکا نہیں اور لوگوں پہ تنقید کرتا رہا میرے اوصاف ہیں میرا بہروپ پن، سچ تو یہ ہے خطاکار ہوں دوستو! میں بھی کیسا اداکار ہوں دوستو! میں بھی کیسا اداکار ہوں دوستو! ان کو دل کی لگن میں جتاتا رہا جن سے دل کو بھی کوئی لگاؤ نہیں زندگی بھر میں اُن سے نباہا کِیا جن سے پل بھر کا ممکن نبھاؤ نہیں ایک پتھر کے آگے میں خود جھک گیا جب یہ دیکھا کہ اس میں جھکاؤ نہیں مجھ کو پتھر سمجھتے رہے آج تک میں تو اتنا لچکدار ہوں، دوستو! میں بھی کیسا اداکار ہوں دوستو! میں بھی کیسا اداکار ہوں، دوستو! میرے چرنوں میں کتنی حسیں داسیاں پھول چاہت کے اب تک چڑھاتی رہیں اپنے سپنوں کی مالا لیے ہاتھ میں گیت میری عقیدت کے گاتی رہیں آرتی کے اگر دیپ بجھنے لگے، اپنی پلکوں پہ شمعیں جلاتی رہیں میں نے اُن پر یہ ظاہر نہ ہونے دیا میں تو خود بھی گنہگار ہوں دوستو! میں بھی کیسا اداکار ہوں دوستو! میں بھی کیسا اداکار ہوں دوستو! پارساؤں نے سمجھا فرشتہ مجھے، رند بولے کہ میں اِک بلانوش ہوں کوئی سمجھا کہ شاید میں بدمست ہوں، اور کسی نے کہا میں تو باہوش ہوں غیر پہچانتے کیا کہ پھر غیر تھے، سچ تو یہ ہے کہ میں خود فراموش ہوں اک معمّہ ہوں میں آپ اپنے لیے، میں سراپا پُراسرار ہوں، دوستو! میں بھی کیسا اداکار ہوں دوستو! میں بھی کیسا اداکار ہوں دوستو!