احمد جاوید

احمد جاوید

مینڈکوں کی افواج سے خطاب

    نیند سے عمیق خواب سے بلند اور بیداری سے وسیع ایک لفظ ہمیشہ سے ناگفتہ، نانوشتہ کبھی نہ سوچا ہوا اور زبان سے بیگانہ دیوانی بھیڑوں کا گلہ ایک غیر فصیح عبارت جسے مٹا دیا کسی مفلوج ہاتھ نے سختی سے، بیزاری سے تقدیر، واقعات کو نگل جانے والا اژدھا، دریا کو کھا جانے والا بھنور کسی نوزائیدہ سورج کی مٹی سے پھوٹنے والا تنہا پھول، یا۔۔۔ یا ایک الوہی ساعت جس کے لیے وقت کی مقدار ناکافی ہے اور یہ ابہام زدہ کائنات بھی! بڑی گھٹن ہے یہاں حتی کہ مینڈک بھی چیخ اٹھے ہیں جو ایک معمولی لمحے میں صدیاں بسر کر دیتے ہیں اے بانجھ تالاب کے بیٹو! تم ایک منحوس پیڑ کے پتے ہو اور کسی مردہ زبان کے حروف خبر دار! میری نابینائی کی زد میں نہ آنا تمہارے قلعے اور فوجیں اور جھنڈے تمہاری مفتوحی کو ٹال نہیں سکتے میں آندھی سے زیادہ زور آور ہوں جو تاریخ کے جامد پہیے کو گھما دیتی ہے اس ریگستان میں جو کسی قدیم صحیفے میں واقع ہے نہیں ، بالکل نہیں بھول جاؤ کہ تم کبھی اس ہوائی تالاب میں ڈبکی لگاؤ گے جو تمہارے ان گھڑ خواب کی ایجاد ہے وہ تو میری شمشیر کے سائے کی چمک بھی نہیں سہہ سکتا ایک دیوانہ گڈریا مینڈکوں کو ہر حال میں تہس نہس کر سکتا ہے ان کی تمام سلطنتوں اور آبادیوں سمیت کیونکہ وہ سدھایا ہوا سائنس داں نہیں ہے نہ ہی سنکی فلاسفر وہ بالکل کھرا ہے، طاقت ور اور ہیبت ناک جیسے شعلے کی دھار جسے خالص آگ نے بلند کیا یا پھر تیز لپک والا گلِ سرخ آسمانی الواح پر مہر کیا ہوا اس کے ہاتھ کی پیغمبرانہ گرفت میں ہے وہ عصا جو تاریخ سے زیادہ قدیم ہے اور وقت اس کا مستقبل بعید ہے