Toggle navigation
شاعری
نظم
غزل
مثنوی
نعت
حمد
قصیدہ
قطعہ
نثری نظم
شعری تراجم
شعری مزاح
نثر
نثر نگار
افسانہ
ناول
ناولٹ
ڈرامہ
خاکہ
مضامین
ادبی کالم
یاداشتیں
تنقید
نثری تراجم
انشائیے
فنون-لطیفہ
موسیقی
مصوری
خطاطی
رقص
فن تعمیر
رسائی ادب
سلام
مناقب
مرثیہ
شعرا
(current)
ای-کتاب
عالمی ادب
ارسال کریں
احمد جاوید
بے زاری کی آخری ساعت
جب پہاڑ ڈھے جائیں گے
اپنے ہی بوجھ سے
سمندر ڈوب جائیں گے
اپنی ہی گہرائی میں
سورج جل جائیں گے
اپنی ہی آگ میں
تو ایک آدمی
دیکھ رہا ہوگا یہ منظر
بے زاری کے ساتھ
نظم
نثری نظم
غزل
مینڈکوں کی افواج سے خطاب
مجذوب کا رجز
صدر بش کا خطبۂ جمعہ
آنکھوں کی تجدید
ایک کھیل
ایک سورما کے نام
بے زاری کی آخری ساعت
سیٹھ آدم بھائی مٹی والے کا رجز
تھا جانبِ دل صبح دم وہ خوش خرام آیا ہوا
مچا رکھی ہے چشمِ یار نے سارے میں دھوم ایسی
یہ بہتر ہے دنیا کھنگالی ہوئی ہو
ہستی سے غفلت ہی اچھی، لوگو، مر جانے تک
چشم کو دل کے بغیر اُس کا تماشائی نہ کر
کیا ہے دل نے بیگانہ جہانِ مرغ و ماہی سے
آمادہ رکھیں چشم و دل سامانِ حیرانی کریں
واقف ہیں جان دینے کے ایک ایک ڈھب سے ہم
دنیا سے تن کو ڈھانپ قیامت سے جان کو
آہستہ کہ دل میں تہ نشیں ہے
یہ کیا ہے اس کے بارے میں تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا
محفوظ اس دل کی ہمدمی سے
جس کا دراز ہے قد، جس کی بڑی ہیں آنکھیں
کتنے ہی بظاہر ہیں تجھ سے بھی حسیں کر کے
ہرگز نہ راہ پائی فردا ودی نے دل پر
کتنے میں بنتی ہے مہر ایسی
آنسو رکا کھڑا ہے، کیسا یہ چشمِ تر میں
سروِ گل چہرہ باغ میں آیا
گوہرِ قلزمِ ہستی ہے یہ دل، ہاں یہی دل
کوزہ گر ہاتھ میں اندر سے بدلتی ہوئی خاک
اُس آفتابِ غیب کا اصرار ہے یہ مستقل
گئے تھے وہاں جی میں کیا ٹھان کر کے
مگر وہ دیا ہی نہیں مان کر کے
صبا دیکھ اک دن ادھر آن کر کے
چار آنسو بھی کافی ہیں رو لیجیے
علاج ہے مرے افلاس کا وہی آواز
سنو کہ رہنِ شنیدن نہیں مری آواز
نہ ملی ہو اپنی ہی وحشتوں سے جسے پناہ مری طرح
اچھی گزر رہی ہے دلِ خود کفیل سے
محفل ہے اور طرح کی تنہائی اور ہے
چاک کرتے ہیں گریباں اس فراوانی سے ہم
دل آئنہ ہے مگر اک نگاہ کرنے کو
نہالِ وصل نہیں سنگ بار کرنے کو
جسے آنکھوں نے دیکھا تھا کبھی بینائی سے پہلے
دلِ بے تاب کے ہمراہ سفر میں رہنا
آنسو کی طرح دیدۂ پر آب میں رہنا
مرے اشک و آہ سے بے نیاز دلِ تباہ میں کون ہے
کسی کا دھیان مہِ نیم ماہ میں آیا
ہمیشہ دل ہوسِ انتقام پر رکھا
ہماری ہم نفسی کو بھی کیا دوام ہوا
فرصت نہ ملی کارِ جہاں بانیِ دل سے
سرسبز ہوا بادیہ سیرابیِ دل سے