احمد جاوید

احمد جاوید

سرسبز ہوا بادیہ سیرابیِ دل سے

    سرسبز ہوا بادیہ سیرابیِ دل سے اس ابر کو پوچھے کوئی اعرابیِ دل سے یہ غنچۂ امروز ہے وہ لالۂ فردا کیا پھول کھلے باغ میں شادابیٔ دل سے آیا تھا کسی اور ہی عالم سے وہ طوفان یہ کشف ہوا ہے مجھے غرقابیِ دل سے ہاں اہلِ زمیں تم کو مبارک مہ و خورشید یہ ذرے بھی روشن ہیں جہاں تابیِ دل سے