احمد جاوید

احمد جاوید

مجذوب کا رجز

    تنہ نا ھا یا ھو تنہ نا ھا یا ھو گم ستاروں کی لڑی ہے رات ویران پڑی ہے سب زمانوں پہ مسلط عجب اک نحس گھڑی ہے آگ جب دن کو دکھائی راکھ سورج سے جھڑی ہے غیب ہے دل سے زیادہ دید آنکھوں سے بڑی ہے گر نہ جائے کہیں آواز خامشی ساتھ کھڑی ہے لفظ گونگوں نے بنایا آنکھ اندھوں نے گھڑی ہے یاں نہ ہونا بھی دشوار تم کو ہونے کی پڑی ہے اک دخاں زار کی تصویر شعلہ در شعلہ جڑی ہے رائی کا دانہ یہ دنیا کوہساری پہ اڑی ہے میرے بازار میں یہ جنس تول کر دھیلے دھری ہے دل تمہارے ہوئے اندھے اور یہ اندھوں کی چھڑی ہے وقت کے پائوں میں کب سے پھانس کی طرح گڑی ہے کتنی بدرو ہے یہ ، تھو تھو تنہ نا ھو یا ھو طرفہ دام و رسن ایجاد میں ہوں سیاروں کا صیاد از فلک تا بہ زمیں ہے گرم ہنگامئہ بیدار آتشیں آہ یہ خورشید اور افق ہے لب فریاد چرخ کے شور میں رکھ دی میں نے سناٹے کی بنیاد کرئہ بود وعدم ہے میرے چوگان کا ہمزاد وحشت انباری دل ہے دانہ دانہ شجر افتاد آسماں میرا مصاحب وقت ہے بندۂ ارشاد ایک پل مرشد موجود ایک معدوم کا استاد پانی ہے پانی میں غرقاب جال ہے جال سے آزاد آگ ہے آگ میں ساکن خاک ہے خاک سے آباد دشت ہے آبلہ مقدار عکس ہے آئنہ میعاد آنکھ کی اصل ہے آنسو تنہ نا ھا یا ھو نہیں جو شعلہ بھی حراق آگ کرتی ہے اسے عاق رات رہنے نہیں دیتی شمع کشتہ کو سر طاق جیش قہار جنوں کا ہے ہوائوں سے یہ میثاق کسی آندھی سے نہ ہو گا سرنگوں رایت عشاق دشمناں تم کو بشارت میں وہ سیاف ہوں مشتاق دست خوں ریز میں جس کے زہر ہستی کا ہے تریاق جس کا نیزہ ہے سپر دوز جس کی شمشیر ہے براق جس کا شبدیز بلا خیز چابک و پر دم و سباق جو ہے غارت گر آواز خامشی کے لیے قزاق برگ جس کا چمن آہنگ ذرہ ہے بادیہ مصداق زور جس کا ہمہ امکاں شور جس کا ہمہ اطلاق ایک شعلے میں ہوا صرف گلخنِ انفس و آفاق دل ہو ادردپہ یکسو تنہ نا ھا یا ھو حامل لشکر و رایہ میں ہوں طوفان کی دایہ بادیہ گردوں کی میراث جلتی دیوار کا سایہ ہے مری چاہ پہ موقوف دور دولاب عنایہ ہے مری پیاس کی مرہون گردشِ چرخِ سقایہ حضرتِ عشق سے مروی ہے یہ اصل روایہ روح طیار کی پرواز ہے الیٰ غیر نہایہ میرے دریا میں نہ ڈالو کوزئہ کنز و ہدایہ جذبِ سرشارِ فنا کا مرگ ہے ایک کنایہ میں ہوں قتال من و تو تنہ نا ھا یا ھو میری تنہائی سے ہشیار اس کی گہرائی سے ہشیار سب زمانوں کو منادی لخطہ پہنائی سے ہشیار غیب در غیب ہے اک شور چشمِ سودائی سے ہشیار چھپنے والے کو سنا دو میری بینائی سے ہشیار دشت کتنا ہی بڑا ہو آبلہ پائی سے ہشیار ماہیاں! چشمئہ دل کی ہفت دریائی سے ہشیار اے خدایان یم و رود سیلِ صحرائی سے ہشیار ہاں مبارز طلباں! ہاں میری پسپائی سے ہشیار باز ِاشہب ہے مرا تیر اس کی اونچائی سے ہشیار بھاگو بھاگو مری چپ سے نیز گویائی سے ہشیار میں بلا خیز ، بلا خو تنہ نا ھا یا ھو رختِ بینائی ہوئی آگ آنکھ تک آئی ہوئی آگ بانی ٔنارِ جہنم میری ٹھکرائی ہوئی آگ دو جہاں پھونک چکی ہے یہ مری لائی ہوئی آگ میرے سینے سے نکلتے دیکھو گھبرائی ہوئی آگ شعلۂ نحس کا معدن ایک پتھرائی ہوئی آگ اے دخاں زاد غنیمو! تم ہو کجلائی ہوئی آگ کرے حمامِ وغا گرم! وہ بھی مرجھائی ہوئی آگ! میرے آگے سے اٹھالو اپنی دنیائی ہوئی آگ کم نہ ہو شعلہ برابر میری رکھوائی ہوئی آگ عرش تک دل کی پہنچ ہے یہ ہے نپوائی ہوئی آگ لوحِ تقدیر پہ ہے ثبت میری لکھوائی ہوئی آگ ہے مرا حرفِ مکرر جیسے دہرائی ہوئی آگ رکھتی ہے کشتِ فنا سبز میری برسائی ہوئی آگ اب ہے آنکھوں سے مخاطب دل کو سنوائی ہوئی آگ گنج ِویرانۂ جاں ہے ایک دفنائی ہوئی آگ اشکِ گرم آنکھ سے نکلا یا کہ دھلوائی ہوئی آگ آب ِشمشیر پہ دم کی میں نے پڑھوائی ہوئی آگ ٓآگ ہے زخم کا دارو تنہ نا ھا یا ھو