نہ ملی ہو اپنی ہی وحشتوں سے جسے پناہ مری طرح
نہ ملی ہو اپنی ہی وحشتوں سے جسے پناہ مری طرح کسی خاک زردِ پہ کھلا وہ گلِ سیاہ مری طرح کوئی مردِ معرکۂ حیات ہے تشنہ کام لبِ فرات کوئی میش دل ہے بہانہ جُو سرِ قتل گاہ مری طرح یہ غروب روزِ مبارزت کہ شبِ سیاہ شکست ہے کسی دل کے ساتھ اجڑ گئی ہے یہ خیمہ گاہ مری طرح مرا دکھ سمجھ کے دمک اٹھی ہے شبِ سیاہ فراق بھی انہی دوریوں میںستارہ گر ہے کوئی نگاہ مری طرح مرے بادشاہ کی خیر ہو، میں گدائے خاک نشیں سہی کہ اسی کے فیض سے پل رہے ہیں یہ کوہ و کاہ مری طرح کبھی اس گرفتۂ غم پہ بھی نگہِ کرم کہ کہیں نہیں کوئی شہ سوار تری طرح نہ غبارِ راہ مری طرح نہیں حوصلہ تری دید کا، مرا عشق کیا مرا دل ہی کیا ترے پاؤں چھو کے پلٹ پڑے ہیں یہ مہر و ماہ مری طرح وہ قلندروں کا ترانہ گنبدِ جاں میں گونج رہا ہے آج کہ الاؤ بن لے دہک رہی ہے یہ خانقاہ مری طرح کوئی آگ ان کو جلا رہی ہے بہارِ تازہ کی اوٹ میں لبِ جوئبار جھلس گئے ہیں گل و گیاہ مری طرح