احمد جاوید

احمد جاوید

سیٹھ آدم بھائی مٹی والے کا رجز

    برباد ہوگیا وہ شخص

    جس نے میری للکار پر خندہ کیا

    یا میرے نیزے سے خلال کیا

     

    میں اس قبیلے کا سردار ہوں

    جس کے دشمن قتل نہیں ہوتے،

    خود کشی کر لیتے ہیں

    اپنے دھڑوں پر سر مت اگاؤ

    جو خاک پر لڑھکنے کے لیے بنے ہیں

    ایسی آنکھوں سے دست بردار ہو جاؤ

    جن کے واسطے بینائی آگ ہے

    تم میرے دشمن تو بن سکتے ہو

    مگر مجھے اپنا دشمن بنانے کی اہلیت نہیں رکھتے

    اس نا اہلی پر خدا کا شکر بجا لاؤ

    میرے چیتوں کو آسان شکار بن کر بے کیف نہ کرو

    میں کوئی وحشی سورما نہیں ہوں

    جس کا کھانڈا ہمیشہ سر سے اوپر رہتا ہے

    پسپائی میں عجلت نہ کرو

    دلیرانہ جذبات کو کچھ دیر خود پر غالب رکھو

    تمہیں خود کشی کی مہلت بہر حال ملے گی

    تم میرے لیے بڑی کارآمد شے ہو

    تمہارا خون

    سرخی کی شدت سے جمتا نہیں ہے

    اس کے اچھے دام لگیں گے

     

     

     

    تمہاری کھال نرم، اجلی اور بے داغ ہے

    ترقی یافتہ دنیا میں

    لوگ اپنی جذامی جلد سے اکتا چکے ہیں

    میں وہاں بڑے پیمانے پر کھال بدلنے کا کاروبار کروں گا

    تمہارا ڈھانچہ اتنا بے عیب ہے

    کہ اسے قطب شمالی کی ابدی برف میں چھپا کر محفوظ کر لیا جائے

    تو دو لاکھ یا زیادہ سے زیادہ تین لاکھ سال بعد

    یہ انسانوں کی معدوم نوع کی اکیلی نشانی ہوگا

    تم خود تصور کرو

    اس زمانے کا محکمۂ آثارِ قدیمہ

    اس کی کتنی بولی لگائے گا

    لیکن میں نے طے کر رکھا ہے

    تمہارا پنجر اس طرح نہیں بیچوں گا

    میں اس پر خدا کی پرچی لگاؤں گا

    ممکن ہے وہ مخلوق خدا کی منکر ہو

    یا اس پر این لانا بھول چکی ہو!

    اس کے باوجود میں ایسا ہی کروں گا

     

    خدا کو نہ مانا جائے تو بھی

    اس کی قیمت، بہر حال، آدمی سے زیادہ پڑتی ہے