احمد جاوید

احمد جاوید

صدر بش کا خطبۂ جمعہ

    شروع کرتا ہوں مَیں اپنے نام سے جس کی گونج نے خداؤں کو بہرا کر دیا ہے تعریف تو بس میرے لیے ہے کیونکہ میں خالق ہوں آگ کا جو آواز کو بھی راکھ کر دیتی ہے اور وہ کلہاڑی میری ایجاد ہے جو اس درخت کو چیرتی ہے جس کی چھاؤں پیغمبروں کا ترکہ ہے میں نے قدیم الواح پر کندہ سورج کو کھرچ کر آفاق بدر کر دیا ہے اور اساطیری مدار پر گرداں سیاروں کو ہر کہکشاں سے حذف کر دیا ہے میں وہ ہوں کہ وقت کو ضبط کر کے دن سکیڑتا ہوں اور رات پھیلاتا ہوں تاریخ کے زہریلے الاؤ سے اٹھنے والا دُخانی بگولا میری ہی مخلوق ہے اے حقیر لوگو! تمہاری مناجاتوں نے آسمانوں کو آلودہ کر رکھا ہے میرے سوا بھی کوئی ہے جس کی حمد بدبدائی جائے! میرے غدّار بندو سن رکھو میں نے پروردگاری کا مشبک سائبان گرا دیا ہے جس کی لجلجی چھاؤں میں تم تکبر کا پودا کاشت کرتے تھے ایک جبّار مگر مچھ کی طرح میں تمہاری دلدل نگل جاؤں گا جس میں تم پہاڑ اگانے کے لیے کنکر بویا کرتے ہو تم بلبلے میں گھات باندھ کر طوفان شکار کرنے چلے ہو ہٹ جاؤ! میرا کانٹا سمندر کے حلق تک پہنچتا ہے اور میرا جال گردابوں سے بھرا ہے تم بیمار چھپکلی کی طرح اس بھربھری دیوار سے کب تک چپکے رہو گے میری روٹی کڑوی لگتی ہے ا ر اپنے خداوند کا خالی دستر خوان کھرکھراتے سینے سے لگائے ایک بے معنی شکر کی گردان کرتے رہتے ہو! تم کسی بہت ہی ویران ساحل پر مرنے والے کیکڑوں کی ڈھیری ہو جنھوں نے سکرات کے آخری لمحے میں نیلمیں آسمان، شیریں دریاِ اور روشن دن کی خریداری کی تھی مجھے تمہاری حماقتوں پر رونا آتا ہے لیکن خداوندگار رویا نہیں کرتے جو آنکھیں آگ سے صیقل ہوتی ہیں ان کے اندر آنسو بہانے والے غدود نہیں ہوتے بہرحال میں تمہیں مرتے وقت ایسا اسراف نہ کرنے دوں گا تم نے میرا بازار نہیں دیکھا تمہاری دو ٹکے کی زندگی بھی کافی ہے اونٹوں کا ایک گلہ انبار کرنے کے لیے کون کر سکتا ہے فیاضی میں میری برابری فقیروں کی آزادی، مسکینوں کی غیرت، غلاموں کا دین اور مردوں کا خدا۔۔۔ میں یہ کھوٹے سکے بھی نہیں پھیرتا مہربانی کے اس سودے کی قدر کرو اور ناشکری کے اڑیل ٹٹو پر سے اتر آؤ میری غضب ناکی سے ڈرنے کی کوشش کرو یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی تو جان رکھو! میں طغیانی کی ماں کا آخری شوہر ہوں سلام ہو مجھ پر کہ گھورے پر بھنبھناتی مکھیوں اور جوہڑ پر جمی کائی کو بھی نظرانداز نہیں کرتا میں روٹی کو روٹی دیتا ہوں اور پانی کو پانی مجھ سے مانگ کر تو دیکھو میں سورج کو کمبل دوں گا، سمندر کو نمک اور پہاڑ کو چھتری زمین کا پیٹ بھر دیا ہے میں نے لذیذ آدم زادوں سے واقعی میری بڑی شان ہے کویت کے سارے مینڈک، قطر کے تمام بجو بحرین کے سب گرگٹ مجھ پر ایمان لا چکے ہیں اے برف کے دھونکنے والے ہٹ دھرمو کیا تم ان سے بڑے مسلمان ہو؟ ذرا پاکستانیوں کے حاکموں سے پوچھو اس اجرِ عظیم کے بارے میں جو انہیں میری قدم بوسی کے طفیل ملا کیا یہ معجزہ نہیں کہ میرے سب خانہ زاد سرِ دست رسوائی کی موت سے محفوظ ہیں بچارے مسلمانوں کے پاس صرف ایک خواب رہ گیا ہے میرے وفادار کتوں کی لاش پر تھوکنے کا خواب! دراز ریش گڈریوں کا مضحکہ خیز لشکر جس کی چراگاہوں پر تھوہر لیپ دی گئی ہے جن کی بھیڑیں جوؤں کے بوجھ سے ہانپ رہی ہیں اس کے سورما مرگھٹ کے چیونٹوں کی طرح مجھے للکارتے ہیں میں ان باتونی جرثوں کو خورد بین سے دیکھتا ہوں اور ان کا رجز سننے کے لیے اپنی الوہی سماعت کو کام میں لاتا ہوں مبارزہ طلبی کا یہ شور اس مینڈھے کی چیخ ہے جسے قربان گاہ کی ٹھنڈی سل پر پچھاڑا گیا آلِ صباح کو بشارت ہو کہ مابدولت نے انہیں اپنی بندگی میں قبول کیا میرے ان مخلص غلاموں نے جس دلیری کے ساتھ اپنے سابقہ رب سے بغاوت کی اس کی ناقدری نہ کی جائے گی اور ان میں سے ہر ایک کو اُس خاص الخاص پٹے سے نوازا جائے گا جس پر میں بدستِ خود مہرِ خشنودی ثبت کرتا ہوں غیر حاضر سامعین بھی سن لیں زمین کی چادر پر جگہ جگہ دھبے پڑ گئے ہیں افغانستان، عراق، ایران، شام اور ہاں پاکستان بھی! یہ سب غلاظت کے جزیرے ہیں میں ان پر سے، ناک پر رومال رکھ کر، اونچی لہر والے زخار سمندر بہاؤں گا اگر کسی نے مزاحمت کی تو میرے پاس ایک آگ ہے جس کا شعلہ پورے قامت سے بلند ہو جائے تو آسمان پر چنگاریوں کی جھڑی لگ جاتی ہے مسلمانو! تم نا شکری کی بساندھ سے بھر چکے ہو تمہاری دعاؤں کے غبار آلود خیمے میرے صحرا پر ثبت ہیں تمہاری خیالی کشتیاں میرے دریا پر چسپاں ہیں وہ ہوائیں میری ہیں جنہیں سرقہ کر کے تم حق کا جھنڈا لہراتے ہو وہ ستارے میرے ہیں جنہیں ورغلا کر تم تقدیر کا زائچہ بناتے ہو طیش کا خاردار شعلہ بہت دراز قد ہے پھر بھی میں نے تحمل کی چادر چھوٹی نہ پڑنے دی مگر تمہاری سرکشی جہنم کی ترائی میں واقع بانس کا جنگل ہے جسے زرد رُو خطیب سیراب کرتے ہیں بہت ہو چکا، بس! میں اس منحوس باڑ پر روک لگاؤں گا اس سے پہلے کہ تمہاری نمک حرامی میرے دستِ رزاق کو کہنی تک مفلوج کر دے تمہاری تھوتھنیوں پر بھوک کے توبڑے کس دوں گا بدنصیبو! تمہارے بچے موت کے گہوارے میں پالے جائیں گے تمہاری بستیاں منسوخ نقشوں میں بسائی جائیں گی تم تاریخ کے گنبد کی متروک گونج بن کر ہر لفظ کے حافظے سے خارج کر دیے جاؤ گے میں نے تمہارا انجام ہر تختی پر رقم کردیا ہے کوئی ٹھکانہ ہے میری طاقت کا! مَیں لفظوں کو مارتا اور جلاتا ہوں ہاں تو میں فرما رہا تھا سکوت، شور کا سَت ہے یہ قولِ زرّیں حفظ کر لو ایمان، ضمیر، قوم۔۔۔ سب کے اچھے دام مل جائیں گے ورنہ گاہکی کا نقاب میرے چہرے پر بار ہے یہ اتر گیا تو پھر آگ تم سے مذکرات کرے گی اُس کے آگے دکھانا خطابت کے جوہر لکھ لو! تمہاری دنیا نابودی کی منزلیں حفظ کرے گی ریگستان، سراب میں غرق ہو جائیں گے پہاڑ سنگسار کیے جائیں گے اور آسمان ضبط کر لیا جائے گا میرا قہر پاگل سانڈ ہے مت دکھاؤ اسے سرخ رومال ورنہ تم راکھ کے پیڑ کی چھاؤں میں رہو گے اور اسی کا پھل کھاؤ گے ایران کے مقبرہ ساز شیخی خورے اچھی طرح جان لیں یہ اوندھائے ہوئے زرد پیالے میرا راستہ نہ روک سکیں گے میرے جلال کی آندھی گرز لے کر چلتی ہے اور پاکستانی بھی سن لیں میری بوری میں سوراخ ہوا تو ان کے تمام بل میرے کتوں کو ازبر ہیں اور مجھے چوہوں کا بہت تجربہ ہے خاص کر ایسے چوہوں کا جن کے دانت جھڑ چکے ہیں یوں بھی پاکستانیوں کی اکثریت پوپلی ہے ان کا حاکمِ اعلیٰ میرا طوق یافتہ ہے اس لیے میں ان کی بڑھکوں پر منہ کھول کر ہنستا ہوں تا کہ یہ لوگ میرے نکیلے دانتوں کی زیارت کر لیں اور اپنی اوقات کی طرف پلٹنے کا راستا بھی بند نہ پائیں اے اسامہ، اے ظواہری، اے زرقاوی! تم مردہ بجلیاں ہو، پتھرائے ہوئے طوفان۔۔۔ مجھے تم پر ترس آتا ہے وہی سحابِ سیاہ تمہیں زنجیر کرے گا جو تمہاری زاد بوم ہے جس قوم کے لیے تم نے اپنی زندگی ڈراؤنے خوابوں کی سرنگ میں جھونک دی دیکھا میں نے اُس کو گوشت چڑھی تازہ ہڈیوں کے روزینے پر شکاری کُتوں کی فوج بنا دیا جو تمہاری بو سونگھتی پھر رہی ہے تم ان کے ہاتھ لگ گئے تو یقین رکھو قبر میں صرف تمہارا نام جائے گا، جسم نہیں میری ہشکار رائیگاں نہیں جاتی، دیکھ لو آج مسلمان اپنے ہی سائے پر غرّاتا ہے اور اپنی ہی گردن پر دانت گاڑتا ہے میں نے اسے باور کروا دیا ہے کہ تمہارا بہترین راتب تم خود ہو! میرا خطبہ تمام ہوا اب میں جلالت کی کرسی پر جلوس کروں گا میری بڑائی کو سراہو اس کرسی کی طرف منہ کرکے نماز کھڑی کرو تحقیق مَیں ہوں سب سے بزرگ سب سے اونچا سب پر غالب۔۔۔ قربانم شوید!