احمد جاوید

احمد جاوید

ایک سورما کے نام

    آنے والے دن کے آخر پر سورج ٹوٹی ہوئی ڈھال کی طرح اُفق پر چسپاں ایک حنوط کیا ہوا سر کسی سورما کا جو وقت سے ہار گیا! بگولے ایسی ہوا اور ایک رنگا ہوا گھوڑا لہولہان دل ہمیشہ گھڑ لیتا ہے ایک دنیا اپنے لیے محبت کہیں زیادہ سفاک ہے نفرت سے کیوں کہ یہ اچھوتی اور اُجلی ہے اس ستارے کی طرح جو کندہ ہے ایک مقدس قرباں گاہ کی چھت پر زندگی! ہشت! ہاں مگر موت ایک پل ہے شکستہ اور چرچراتا ابدیت کے بوجھ تلے کہاں ہے تمہارا رتھ جو تاریخ سے زیادہ تیز چلتا ہے اور کہاں ہے تمہارا جھنڈا جس کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا