مچا رکھی ہے چشمِ یار نے سارے میں دھوم ایسی
مچا رکھی ہے چشمِ یار نے سارے میں دھوم ایسی دو ورقی ہے یہ اہلِ دل کو احیاء العلوم ایسی زمینِ دل پہ خوباں کے قدم جس طرح پڑتے ہیں فضائے آسماں میں کب ہے رفتارِ نجوم ایسی جو دل کو چشم کی بدعت سے یکسر پاک کر ڈالے چلائے کوئی تو تحریکِ اصلاح الرسوم ایسی زمین و آسماں تک جس نظر سے ڈول جاتے ہیں کبھی پڑتی ہے اِ س دل پر تو آجاتی ہے جھوم ایسی مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن دل اندر دل کوئی شَے سی سبو اندر سبو مَے سی تمنّاؤں کا شور آباد ہے سینہ مرا کیا ہے اسے کب راس آسکتی ہے جائے پُر ہجوم ایسی ہوائے زندگی ہے مانعِ نشوونمائے دل نہالِ عشق کو ہر سانس ہے موجِ سموم ایسی تمہی کو آتا ہے آنکھوں سے چھپ کر دل پہ کھل جانا نہیں دیکھی خصوصیّت کسی میں بالعموم ایسی خداوند کبھی جاوید کے دل پر بھی نازل ہو غزل اک عارفِ شیراز یا مولائے روم ایسی