یہ بہتر ہے دنیا کھنگالی ہوئی ہو
یہ بہتر ہے دنیا کھنگالی ہوئی ہو بشرطیکہ دل سے نکالی ہوئی ہو رہا آنکھ کو شغل رونے کا ایسا قسم لے لو اک پل جو خالی ہوئی ہو ارے تیرے دل میں کوئی ایک شے تو سمیٹی ہوئی ہو، سنبھالی ہوئی ہو یہ ممکن ہے تم نے لیا ہی نہ ہو دل ہمی سے کہیں بے خیالی ہوئی ہو نہیں یاد پڑتا کہ اُس روز تم سے کوئی بات دل دینے والی ہوئی ہو سنا ہے کہیں منصبِ عشق پر سے اتر کر کسی کی بحالی ہوئی ہے نشانِ فضیلت وہ دستار ہے جو گرائی ہوئی ہو، اچھالی ہوئی ہو غلط ہے کہ بیزار ہیں عقل سے ہم مگر دل کے سانچے میں ڈھالی ہوئی ہو کرو مشقِ تسوید جس لوح پر بھی بس اک دیکھ لینا اجالی ہوئی کوئی ہے جس نے اسے دیکھ کر بھی متاعِ دل و دیں سنبھالی ہوئی ہو نہ دیکھا کہ یہ چشمِ خوں بستہ اک دن ترے منہ پہ کھل کر سوالی ہوئی ہو ہمیں تو میاں بخش دیجے کہ دل سے ہوئی ہو جو صاحب کمالی ہوئی ہو وہ گل، وہ گلِ روضۂ جاں سلامت یہ جیبِ تمنا جو خالی ہوئی ہو یہ بیتیں کہیں میر سن لیں تو جاوید تری خوب ہی گوشمالی ہوئی ہو