ہستی سے غفلت ہی اچھی، لوگو، مر جانے تک
-
ہستی سے غفلت ہی اچھی، لوگو، مر جانے تک اس دریا میں پاؤں نہ رکھنا پار اتر جانے تک کون کہے ان سیاروں سے، مستوں شطاروں سے ہم نے بھی سب سیریں کی ہیں دل کے ٹھہر جانے تک دل کو خوب اجالتے رہنا، دیکھتے بھالتے رہنا کوئی سورج ڈھالتے رہنا رات گزر جانے تک ایک سفر در پیش ہے ہم کو، یعنی بنی آدم کو اپنی جانب چلتے جاؤ، خود سے گزر جانے تک غیب سے پھول سمیٹے والے، صافہ لپیٹنے والے لوگ نہیں یہ لیٹنے والے دامن بھر جانے تک