چشم کو دل کے بغیر اُس کا تماشائی نہ کر
چشم کو دل کے بغیر اُس کا تماشائی نہ کر ورنہ فی الحال اسے آمادۂ بینائی نہ کر یہ نہیں ہے کہ دلا انجمن آرائی نہ کر ہاں مگر سرد ابھی شعلۂ تنہائی نہ کر تیرے بیمار سے کہتے ہیں یہ عیسیٰ نفساں خلق کو منکرِ اعجازِ مسیحائی نہ کر اے صبا لانی ہے اُس گل کی خبر تو لے آ ہم سے اب تُو یہ ابھی لائی ابھی لائی نہ کر دل تو ہے حجرۂ مہمانیٔ دلبر اس میں غیر تو غیر ہے اپنی بھی پذیرائی نہ کر وہ فقط سرو نہیں، غنچہ نہیں، ماہ نہیں آنکھ پر اتنا بھروسہ بھی مرے بھائی نہ کر یہ جو اک چیز ترے دل میں ہوئی ہے پیدا اس کو شرمندۂ خاموشی و گویائی نہ کر اے نسیمِ سحری کس نے کہا ہے تجھ کو باغ میں پرورشِ غنچۂ تنہائی نہ کر