واقف ہیں جان دینے کے ایک ایک ڈھب سے ہم
واقف ہیں جان دینے کے ایک ایک ڈھب سے ہم یہ کام کر رہے ہیں میاں کوئی اب سے ہم رومال رات جانے کہاں رکھ کے بھول آئے روکے ہوئے ہیں گریے کو آج اس سبب سے ہم پہنچے ہیں یار لوگ کمک لے کے اس گھڑی جب ڈھیر ہو چکے ہیں دلِ بے طلب سے ہم اے واہ اس گلی کا پتا بھول جائیں گے! ایسے کہاں کے آئے ہیں روم و حلب سے ہم ایک شعلہ آفتابی و یک قطرہ قلزمی دل بیچ دیکھتے ہیں مناظر عجب سے ہم رومال پچھلی رات کے سوکھے نہ تھے ابھی پھر منہ تھتھا کے آ گئے اس غنچہ لب سے ہم قائم رہیں حضور کی یہ دانہ بخشیاں منہ پھیر لیں گے اب دلِ خرمن طلب سے ہم قیدِ فراق و وصل ہو یا بندِ مرگ و زیست سن لینا تم کہ ہو گئے آزاد سب سے ہم