احمد جاوید

احمد جاوید

آہستہ کہ دل میں تہ نشیں ہے

    آہستہ کہ دل میں تہ نشیں ہے اک موج کہ قلزم آفریں ہے میں کہتے ہیں جس کو میں نہیں ہوں وہ تُو ہی تو ہے جو تُو نہیں ہے وہ خرمنِ عشق ہے مرا دل سیمرغ بھی ایک دانہ چیں ہے صد زاویہ ناکجائی اس کی اک گوشۂ دل میں جا گزیں ہے چھاتی ہوئی شام سی دلوں پر جی بھر کے وہ آنکھ سر مگیں ہے کر مشقِ خرام فرشِ دل پر گرنے کا ذرا بھی ڈر نہیں ہے ہموار ہے سطحِ پایمالی اب تک یہ زمیں وہی زمیں ہے اے چشمِ نظارہ جُو سمجھ لے نادیدہ وہ اور بھی حسیں ہے معمور ہے ذرّہ ذرّہ جس میں وہ جانِ جہاں کہیں نہیں ہے