یہ کیا ہے اس کے بارے میں تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا
یہ کیا ہے اس کے بارے میں تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا مگر چاہوں کہ اپنے ساتھ رہ لوں رہ نہیں سکتا ہمیں بھی وہم تھا ایامِ ما قبلِ محبت میں کوئی خود سے جدا ہو کر بہت دن رہ نہیں سکتا بڑی لمبی مسافت کاٹ کر پہنچا ہے دل تجھ تک ذرا سی ٹھیس بھی یہ آبلہ اب سہہ نہیں سکتا تپش نے دل کی یہ اک قطرہ سا چھوڑا ہے آنکھوں میں دھواں بن کر جو اُڑ سکتا ہے لیکن بہہ نہیں سکتا تمہارا سان گر جانے کہاں مر رہتا ہے جا کر میاں، عاشق کا سر تا دیر تن پر رہ نہیں سکتا جلا سکتی نہیں سارے جہاں کی آگ سورج کو سمندر، لاکھ سیلاب آئے اس میں بہہ نہیں سکتا مگر سچ ہی کہا تھا مصحفی استاد نے جاوید ’’غزل ان قافیوں میں تجھ سوا کوئی کہہ نہیں سکتا‘‘