احمد جاوید

احمد جاوید

محفوظ اس دل کی ہمدمی سے

    محفوظ اس دل کی ہمدمی سے گزرے دو دن امی جمی سے بیزار ہوں میں جنابِ والا اس محترمی مکرّمی سے آیا ہے چمن میں جیسے کوئی اقلیمِ بہارِ دائمی سے شمشاد از بسکہ خیز خیزاں اک جذبۂ خیر مقدمی سے پر نخل غرضکہ ایستادہ ہے پورے قدِّ خرّمی سے دے آئے پری رُخوں کو دل ہم ہو جاتی ہے بھول آدمی سے دنیا جو نہیں رہی ہے اس میں معمور ہے دل اسی کمی سے جُز وصل و فراقِ یار مجھ کو کچھ کام نہیں خوشی غمی سے آتش کدۂ جہاں ہے ٹھنڈا اک شعلے کی نا فراہمی سے دل لے کے کہاں رکھا تھا میں نے وہ پوچھ رہا ہے اب ہمی سے ناقص ہے رسالۂ خموشی اک حرف کی مستقل کمی سے اک بوند رہی نہ دل میں باقی آنکھوں کی ہمیشہ پُر نمی سے