جس کا دراز ہے قد، جس کی بڑی ہیں آنکھیں
جس کا دراز ہے قد، جس کی بڑی ہیں آنکھیں دل اس پہ مرتکز ہے، دل پر گڑی ہیں آنکھیں پانی میں رہنے والے روتے نہیں ہیں شاید دریائے غم کی تہہ میں، سوکھی پڑی ہیں آنکھیں بے ساز و برگیِ چشم اتنی بڑھی کہ آخر مجبور ہو کے دل نے خود ہی گھڑی ہیں آنکھیں سامانِ دید اندک، آہنگِ جلوہ بسیار عین اس کے بالمقابل ساکت کھڑی ہیں آنکھیں دعوے بڑے بڑے ہیں دیدہ وری کے اِن کے موقعے پہ جب بھی دیکھا، جھوٹی پڑی ہیں آنکھیں جو اک نہفتہ رخ سے جوڑے ہوئے دل کو اس سلسلے کی سب سے نازک کڑی ہے آنکھیں در صورتیکہ اب تک دیکھا نہیں ہے اس کو پھولا ہے سینہ دل کا، اکڑی پڑی ہیں آنکھیں خوش فہمیاں بہت ہیں دربارۂ خود ان کا کن کن قیامتوں سے اٹھ اٹھ لڑی ہیں آنکھیں آئین دید نامی اک نقش ہے مرے پاس آنکھوں میں کندہ ہے دل، دل میں جڑی ہیں آنکھیں