احمد جاوید

احمد جاوید

ہرگز نہ راہ پائی فردا ودی نے دل پر

    ہرگز نہ راہ پائی فردا و دی نے دل پر رہتی ہے ایک حالت، بارہ مہینے دل پر سکتے میں ہیں مہ و مہر، دریا پڑے ہیں بے بحر ہے سخت غیر موزوں، دنیا زمینِ، دل پر شعلہ چراغ میں ہے، سودا دماغ میں ہے ثابت قدم ہوں اب تک دینِ مبینِ دل پر یا ایہا المجاذیب، ہے بسکہ زیرِ ترتیب مجموعتہ الفتادی، قولِ متینِ دل پر لکھ لو یہ میری رائے، کیا کیا ستم نہ ڈھائے کل دل نے آدمی پر، آج آدمی نے دل پر یہ رنج ناکشیدہ، یہ جیبِ نادریدہ اے عشق رحم، ہاں رحم، ان تارکینِ دل پر پڑتا ہے جستہ جستہ، مدھم سا اور شکستہ اک ماہِ نیلمیں کا پر تو نگینِ دل پر سو بار ادھر سے گزرا وہ آتشیں چمن سا اک برگ گل نہ رکھا دستِ یمینِ دل پر خوں بستہ چشمِ حیراں، پیوستہ لعن گرداں بے دید بلکہ بے درد بلکہ کمینے دل پر طوفان اٹھا رکھا تھا آنکھوں نے واہ وا کا اُس کی نظر نہیں تھی کل آفرینِ دل پر رنگین تو بہت ہے دنیا مگر مہاشے دھبے سے پڑ گئے ہیں سب آستین ِ دل پر وہ ماہِ نازنیں ہے یا سروِ آتشیں ہے یا فتنۂ قیامت برپا زمینِ دل پر سب نا ملامتوں کو، سب بے کرامتوں کو سب سر سلامتوں کو، لانا ہے دینِ دل پر جاوید کو دکھا کر، کہتا ہے سب سے دلبر اودھم مچا رکھا تھا ان بھائی جی نے دل پر