احمد جاوید

احمد جاوید

کتنے میں بنتی ہے مہر ایسی

    کتنے میں بنتی ہے مہر ایسی ناچیز احمد جاوید اویسی میرے سخن میں ہے ایک شے سی آواز اتنی، خاموشی ایسی کھلتی نہیں ہے مجھ پر یہ دنیا دل میں نہیں سی، آنکھوں میں ہے سی جتنی مسافت سر کر چکا ہوں لگتی ہے وہ بھی ناکردہ طے سی سُوکھا پڑا ہے دریا تو کب کا ہے موج خیزی ویسی کی ویسی اب شہر سارا غرقاب جانو اشکوں میں آئی یہ بوند کیسی ساغر ملا ہے، ساغرسا مجھ کو اس میں بھری ہے، مے کوئی مے سی دیتا ہے ترکِ دنیا کی دعوت جاوید کی تو ایسی کی تیسی