آنسو رکا کھڑا ہے، کیسا یہ چشمِ تر میں
-
آنسو رکا کھڑا ہے، کیسا یہ چشمِ تر میں غرقابیوں کی رَو سی چلتی ہے شہر بھر میں مقیاسِ وحشت آخر دیکھا لگا کے ہم نے کچھ روز ہے تو دل میں، کچھ شور ہے تو سر میں وہ تو کہو کہ دل نے دکھلائی سیر چشمی دونوں جہان ورنہ کھپ جاتے اک نظر میں تقویمِ دید میں ہے اک پل نصیب میرا سو بھی نہیں سماتا اس عمرِ مختصر میں دورِ جنوں کی اپنے، یاد آوری کی خاطر اک گردباد ہم نے رکھا ہوا ہے گھر میں کیا روئیے کہ دل ہی گریے کی پشت پر ہے دریا کھپا دیے ہیں آنکھوں نے بوند بھر میں