احمد جاوید

احمد جاوید

سروِ گل چہرہ باغ میں آیا

    سروِ گل چہرہ باغ میں آیا شعلہ واپس چراغ میں آیا دل کو ہے جو خیال ہوش فروش بن کے سودا دماغ میں آیا سیر کرنے کو وہ تجلی سا سینۂ داغ داغ میں آیا رات پیر مغاں کے سینے سے عکسِ خورشید ایاغ میں آیا ہوئے جاوید سے عبث محجوب تھا وہ اپنے سراغ میں آیا