احمد جاوید

احمد جاوید

گوہرِ قلزمِ ہستی ہے یہ دل، ہاں یہی دل

    گوہرِ قلزمِ ہستی ہے یہ دل، ہاں یہی دل آفتِ جاں جسے کہتے ہیں سب انساں، یہی دل کیا کہا، حشر کے دن لے کے اٹھے گا انسان یہی سودا یہی سر، اور یہی ارماں یہی دل جیسے، جب اور جہاں چاہو کروں تم پہ نثار ہے مرے پاس تو لے دے کے یہی جاں، یہی دل اسے رکھا تھا اندھیرے میں دمِ دید مگر بن گیا روشنیِ دیدۂ حیراں، یہی دل جس نے جاوید کا یہ حال کیا ہے یا رب واقعی رکھتے ہیں کیا گبر و مسلماں، یہی دل