کوزہ گر ہاتھ میں اندر سے بدلتی ہوئی خاک
-
کوزہ گر ہاتھ میں اندر سے بدلتی ہوئی خاک ذرہ در ذرہ مہ و مہر میں ڈھلتی ہوئی خاک دشت پر سایہ پڑا ہے ترے قد کا جب سے سرو و شمشاد اگلتی ہے یہ جلتی ہوئی خاک سانس روکے ہوئے اب دیکھ رہی ہے کس کو یہ مہ و انجم و خورشید نگلتی ہوئی خاک ایک دریا میں سماتا نہیں گردابِ وجود چاک پر چاک بدلتی ہے یہ چلتی ہوئی خاک روز و شب دہر میں گرداں ہے بگولے کی طرح دن نگلتی ہوئی، یہ رات اگلتی ہوئی خاک