احمد جاوید

احمد جاوید

اُس آفتابِ غیب کا اصرار ہے یہ مستقل

    اُس آفتابِ غیب کا اصرار ہے یہ مستقل اچھی طرح دیکھوں گا گنجائشِ آفاقِ دل مجذوب ہے حلاج سا دل دجلۂ موّاج سا یا آتشِ دیرِ قدیم اک بار پھر سے مشتعل جیسے کہ باراں اور باغ، جیسے کہ بادہ اور ایاغ جیسے کہ شعلہ اور چراغ ، جیسے کہ وحشت اور دل میں رقصِ درویشی میں تھا، اس بحرِ خوبی نے کہا یہ گرد بادِ دشتِ دل گرداب ہے دریا گسل دیوانے کو اربابِ صحو، آئی ہے اتنی صرف و نحو سوزن سے کہتا ہے نہ سی، دامن سے کہتا ہے نہ سل ضو سے ایاغِ صبح کی، لو سے چراغِ صبح کی سر مست ہیں سرشار ہیں سر گرم ہیں اصحابِ دل ہر تہہ میں غوّاصی کریں، ہر لے پہ رقاصی کریں اعماق در اعماق ہے آہنگ در آہنگ دل ہاں اہلِ دنیا مرحبا، ہم نے بھی آخر کر لیا چاکِ گریباں کو رفو، زخمِ جگر کومند مل حرفیست اندر حرفھا، ژرفیست اندر ژرفھا ناگفتہ بالد لب بہ لب، نادیدہ جوشد دل بہ دل یار آمدہ یار آمدہ، صبحِ شبِ تار آمدہ خورشید انبار آمدہ بر کشت زارِ آب و گل ہم سے خفا خوئی نہ کر، اے ماہ بے روئی نہ کر اس مرتبہ سامانِ دید ہے صرف دل پر مشتمل رختِ فنا کیشی کے ساتھ، اسبابِ درویشی کے ساتھ سامانِ بے خویشی کے ساتھ خود میں ہوا ہوں منتقل گرداں ہے دل سیّارہ وار اور عشق ہے قطبِ مدار تبدیلیِ افلاک بھی اس میں نہیں ہوتی مخل خورشید کی آواز ہے یہ روشنی اک راز ہے دیدار پر نامنحصر، اظہار پر نامشتمل اتنا حسیں کوئی نہیں، ایسا کہیں کوئی نہیں دیکھا ہے سارا روم ورے، چھانا ہے سب چین و چگل