احمد جاوید

احمد جاوید

گئے تھے وہاں جی میں کیا ٹھان کر کے

    گئے تھے وہاں جی میں کیا ٹھان کر کے چلے آئے ایران توران کر کے اگر دل کا بالفرض گل نام پڑ جائے تو پھر ہے یہ سینہ گلستان کر کے دیا ہم نے دل ان پری چہرگاں کو زروے قیاس آدمی جان کر کے یہ دنیا ہمیں خوش نہ آئے گی پھر بھی رہیں خواہ خود کو سلیمان کر کے ترے غم میں جس سے مژہ تر کروں میں وہ اک قطرہ ہے قلزمستان کر کے دکھا ہی دیا آخرش اہلِ دل نے اسی دانے سے کھیت کھلیان کر کے یہ کیا چیز تعمیر کرنے چلے ہو بنائے محبت کو ویران کر کے میاں ہم تو جاوید کو لے گئے تھے دیا ہی نہیں اس نے پہچان کر کے