احمد جاوید

احمد جاوید

مگر وہ دیا ہی نہیں مان کر کے

    مگر وہ دیا ہی نہیں مان کر کے بہت ہم نے دیکھا ہے جی جان کر کے کبھی دل کو بھی سیر کر جاؤ صاحب یہ غنچہ بھی ہے گا گلستان کر کے نظر اس سراپے میں سو جا سے پلٹی زلیخائیِ یوسفستان کر کے یہ جس روز نکلیں جگ اجیارنے کو یہ دل بھی دکھا لائیو دھیان کر کے جناب آپ حور و ملک ہوں گے لیکن سمجھیے گا بندے کو انسان کر کے تِری لالہ زاری سلامت کہ ہم بھی پڑے ہیں کوئی غنچہ ارمان کر کے مسیح و خضر سر بکف پھر رہے ہیں کوئی اس پہ مرنا ہے آسان کر کے مری کشتِ جاں پر سے گزرا ہے جاوید سحابِ جنوں زور باران کر کے