چار آنسو بھی کافی ہیں رو لیجیے
چار آنسو بھی کافی ہیں رو لیجیے آنکھ دھو لیجیے، دل بھگو لیجیے شوق سے کرتے رہیے گا خود کو فنا پہلے خود کو ذرا ڈھونڈ تو لیجیے کاش ہوتے ہمارے بھی دو چار دل ان سے کہتے میاں ایک تو لیجیے ٹھیک ہے اب جییں گے اسی حال میں ہو گئی سب ختم گو مگو، لیجیے آتشِ جاں پہ چھایا ہوا ہے دھواں اس دھویں میں ہی شعلے پرو لیجیے ایک ہی آن ہے، اور اسی آن میں سارا ہونا نہ ہونا سمو لیجیے وہ گہر دل کے باہر کہیں بھی نہیں چاہے سارے ہی دریا بلو لیجیے ہست بے ہست ہے، نیست بے نیست ہے پھر بھی جی چاہتا ہے تو ہو لیجیے دل کو بے شغل رکھنا مناسب نہیں اس بچارے سے کچھ کام تو لیجیے