علاج ہے مرے افلاس کا وہی آواز
علاج ہے مرے افلاس کا وہی آواز وہی سماعت و گفتار سے غنی آواز زمیں کو سبز کیا اور آسماں شاداب پھر آئی دل کی طرف وہ ہری بھری آواز وہ دشت وہ سورج کے منتظر آفاق وہ صبح خیز پرندوں کی نقرئی آواز ادھر طلوع پہ آمادہ وہ ستارۂ غیب اِدھر یہ دل سے اٹھی خیر مقدمی آواز چراغِ خیمۂ افلاک ہے وہ ماہِ منیر کہ جس کے فیض سے بنتی ہے روشنی آواز نہ سن سکے نہ کوئی اُس کو ان سنا کر پائے خطاب کرتی ہے دل سے وہ سرمدی آواز نکل کے حلقۂ رنداں سے پھر کہیں نہ ملی وہ اک سبو سی خموشی، شراب سی آواز تو بات یہ ہے میاں، تشنگی کے کانوں میں ازل سے گونج رہی ہے سراب کی آواز گئی تھی رات کہیں خامشی کے حجرے میں وہ آگ تھی کہ وہیں راکھ ہو گئی آواز اُسی زمین پہ چمکے گا آفتابِ وجود جو بوجھ لے گی طلوعِ غروب کی آواز ہمارا ترکہ ہے بیٹا سنبھال کر رکھنا یہ ٹوٹی پھوٹی خموشی، بچی کھچی آواز بھنور سے بنتے رہے زیرِ آبِ آئینہ ہوئی تھی عکس وہ سینے میں گھومتی آواز یہ انتظار ہے اب تک بچارے سائل کو وہ آئے قاضیِ حاجات وہ پڑی آواز بتائیے تو ذرا کون ہے طویل العمر یہ ایک لمحہ خموشی کہ اک صدی آواز یہ کہہ رہا تھا بنا کچھ کہے خطیبِ زماں سنو سنو کہ یہی چپ تو ہے مری آواز یہ قولِ خوش بطریقِ سکوت ہے منقول سماعتوں کی مربی ہے ان سنی آواز کہاں کہاں نہ پھری بارِ مدعا لے کر حضور آج سبک دوش ہو گئی آواز