احمد جاوید

احمد جاوید

سنو کہ رہنِ شنیدن نہیں مری آواز

    سنو کہ رہنِ شنیدن نہیں مری آواز یہ ہے سلوکِ خموشی میں منتہی آواز کبھی، یقین کرو، دل خطاب کرتا ہے کبھی مبلغِ نور و حضور تھی آواز جو سچ کہوں تو مجھے آج بھی بلاتی ہے جنید و رابعہ و بایزید کی آواز سماعتوں کی انہی جھاڑیوں میں نغمہ سرا خدا نے مجھ کو عطا کی ہے متقی آواز ٖفغاں کے ممبر و ماتم کے شور میں ہوئی گم ابو الحسن کی خموشی، حسین کی آواز کہاں کا حافظِ قرآں جو سن نہیں سکتا وہ حرف حرف میں مدغم پیمبری آواز جو ناشنیدہ بھی محوِ سماع رکھتی ہے سکوتِ دل کو ہے ازبر وہ سرمدی آواز کھلے پروں سے فضا کو طلائی کرتے ہوئے نکالتے ہیں پرندے سفید سی آواز غروبِ مہر کا تھا بسکہ اور ہی آہنگ کہ جیسے ڈوب گئی آج آخری آواز ہمارے پودوں کو بیمار کرنے آئی ہے کہیں شمال سے آلودگی بھری آواز بلاتی ہے مجھے رہ رہ کے آپ سے باہر مرے ہی سینے سے آتی اک اجنبی آواز ہے ذرہ ذرہ بیاباں نوائی میں سر گرم کسے دکھائیے لا کر یہ ان سنی آواز کسی زمانے میں سورج کلام کرتا تھا کسی زمانے میں ہوتی تھی روشنی آواز یہی تو حاصلِ بزمِ سماعِ ہستی ہے بہار سے بھی ہے بیگانہ سبزے کی آواز جو خاکِ تیرہ میں بھونچال کاشت کرتی ہے اتر گئی ہے مرے سینے میں وہی آواز یہ اور بات کہ محرومِ لن ترانی ہے بنا تو لیتا ہے دل بھی کلیم سی آواز سنا تو میں نے بھی ہے اُس جگہ کے بارے میں جہاں سکوت کی کرتی ہے پیروی آواز ہمیں ملاؤ کبھی اِس خطیبِ اعظم سے بنی ہے جس کی خطابت سے خامشی آواز بقول طائرِ رنگیں نوائے روضۂ جاں بہار سبز سی خاموشی، قرمزی آواز یہ ایک حرف جو دل سے زباں تک آیا ہے یہی ہے میری خموشی، یہی مری آواز چمن میں بولنے کی مشق کر رہی ہے بہار کلی کلی ہے یہاں جیسے ادھ کھلی آواز شگفتنِ گلِ زرتاب و نغمۂ بلبل چہک رہی ہے خموشی، لہک اٹھی آواز دلِ گداختہ و چشمِ تر کی سنگت میں بس ایک رات رہی تھی کہ دھل گئی آواز جو بے نیاز ہے تم کو سنائی دینے سے ملی ہے اہلِ جہاں مجھ کو وہ غنی آواز سنا ہے میں نے کہ بابِ قبول کے پس و پیش وہ خامشی ہے کہ بن جائے آدمی آواز یہ قول ہے مرے استاد کا خدا بخشا سخن میں ہے بھی تو ایک آدھ فیصدی آواز