محفل ہے اور طرح کی تنہائی اور ہے
محفل ہے اور طرح کی تنہائی اور ہے اس شہر کی فضا ہی مرے بھائی اور ہے نکلا نہ کوئی چاک مرے پیرہن کے بیچ اس ہاتھ کی گرفتِ زلیخائی اور ہے کیا بانس لے کے ناپنے نکلے ہیں دل کو آپ اس بوند بھر محیط کی گہرائی اور ہے ہر پردہ اٹھ گیا دل و دلبر کے بیچ سے بس ایک یہ حجابِ شناسائی اور ہے مجنوں سے ہرزہ گرد کا مت نام لے یہاں اپنا طریقِ بادیہ پیمائی اور ہے بلبل عبث لپکتی پھرے ہے چمن کے بیچ وہ غنچۂ حدیقۂ رعنائی اور ہے کیوں عاشقوں کی آنکھ کے دشمن بنے ہو تم یہ جس سے دیکھتے ہیں وہ بینائی اور ہے آئینہ کر کے دیکھ لیا جانِ پاک کو اس کم نما کی شانِ خود آرائی اور ہے