نہالِ وصل نہیں سنگ بار کرنے کو
نہالِ وصل نہیں سنگ بار کرنے کو بس ایک پھول ہے کافی بہار کرنے کو کبھی تو اپنے فقیروں کی دل کشائی کر کئی خزانے ہیں تجھ پر نثار کرنے کو یہ ایک لمحے کی دوری بہت ہے میرے لیے تمام عمر ترا انتظار کرنے کو کشش کرے ہے وہ مہتاب دل کو زوروں کی چلا یہ قطرہ بھی قلزم نثار کرنے کو تو پھر یہ دل ہی نہ لے آؤں خوب چمکا کر ترے جمال کا آئینہ دار کرنے کو بہت سا کام دیا ہے مجھے اُن آنکھوں نے حوالۂ دلِ نا کردہ کار کرنے کو قبائے مرگ ہو یا رختِ زندگی جاوید ملے ہیں دونوں مجھے تار تار کرنے کو