احمد جاوید

احمد جاوید

جسے آنکھوں نے دیکھا تھا کبھی بینائی سے پہلے

    جسے آنکھوں نے دیکھا تھا کبھی بینائی سے پہلے ہوا ہوں ہم کلام اس سے نگر گویائی سے پہلے وہ شعلہ میرے دل کے ساتھ رہتا جسے میں نے کیا روشن چراغِ حجرۂ تنہائی سے پہلے عراقِ خاک سے آگے ہے سرحد فارسِ جاں کی مگر وہ سلطنت ملتی نہیں پسپائی سے بہت ہی غیر ذمے دار ہوں دل کی طرف سے میں رہا خوشحال یہ گھر میری لاپروائی سے پہلے مرا بھی ایک گھر تھا اور لوگوں کے گھروں ایسا وہیں دن کٹ رہے تھے خانۂ رسوائی سے پہلے بہت کچھ ملتے جلتے میری حالت سے رہے ہوں گے زمیں مٹّی سے پہلے، آسماں اونچائی سے پہلے