احمد جاوید

احمد جاوید

آنسو کی طرح دیدۂ پر آب میں رہنا

    آنسو کی طرح دیدۂ پر آب میں رہنا ہر گاہ مجھے خانۂ سیلاب میں رہنا دن بھر کسی دیوار کے سائے کو تگ و تاز شب جستجوئے چادرِ مہتاب میں رہنا اک پل کو بھی آنکھیں نہ لگیں خانۂ دل میں ہر لحظہ نگہبانیِ اسباب میں رہنا وہ آئنہ و شمع سی آنکھیں نگراں ہیں دائم کرۂ آتش و سیماب میں رہنا اک ہجرت ابھی دل کی طرف اور ہے جاوید کیا سندھ میں کیا سرحد و پنجاب میں رہنا