آنسو کی طرح دیدۂ پر آب میں رہنا
-
آنسو کی طرح دیدۂ پر آب میں رہنا ہر گاہ مجھے خانۂ سیلاب میں رہنا دن بھر کسی دیوار کے سائے کو تگ و تاز شب جستجوئے چادرِ مہتاب میں رہنا اک پل کو بھی آنکھیں نہ لگیں خانۂ دل میں ہر لحظہ نگہبانیِ اسباب میں رہنا وہ آئنہ و شمع سی آنکھیں نگراں ہیں دائم کرۂ آتش و سیماب میں رہنا اک ہجرت ابھی دل کی طرف اور ہے جاوید کیا سندھ میں کیا سرحد و پنجاب میں رہنا