ایریکا ژونگ

ایریکا ژونگ

اگر موت ......

    ترجمہ: سعید احمد

     

    سوچتی ہوں

    کیا عجب احساس ہو

    موت اگر آغوش میں بھرلے مجھے ......

    اس لمحۂ موجود میں

    ساتھ میرے نصف اعزازات بھی

    میرے آدھے سال بھی ......

    جن سے بچپن گھر گیا

    اور چاہت، خوب چاہت ہے مگر

    چاہتوں کے دیوتا پر بھی مرا آدھا یقیں

    یوں نہیں تھا......

    گرچہ میری زندگانی کے گزشتہ نصف میں

    ہار دوں گی میں سکوں سے زندگی

    اور ہو جاؤں گی رخصت خامشی سے

    احتجاج اپنی جوانی پر کیے بن

    (جس کے دامن پر نیا اک

    داغ لگتا ہے، بہرصورت ہر اک دن)

    جو کوئی تحفہ نہیں میرے لیے