عمل توازن
ترجمہ: سعید احمد
جبر، مایوسیوں اور شعلہ مزاجی کے ماحول میں
حوصلہ زندگی کا کہاں سے ملا ہے ہمیں
جب کہ ممکن نہیں
زندگانی کا امکان بھی
اور مٹی کی نظمیں چٹانوں سے سر پھوڑتی
اور دیوار میں
کیل فولاد کی ضرب پر
سر جھکاتا ہوا...؟
زنگ، فولاد، مٹی
ہتھوڑوں کی ضربوں پر مڑتے ہوئے کیل بھی
سرخ دھاتوں میں لوہا بدلتا ہوا
شاعر اپنے شگافوں کو بھرتے ہوئے
جوش جذبات سے، یاس سے ......
قوت موت سے
رکھتی ہے ایستادہ ہمیں
موت جو ......
جھاؤ جھنکاڑ کا باغ ہے
جنگلی بوٹیاں اور خاشاک بکھرا ہوا ہے جہاں
اور اک فلسفی سا کسان اس کو سیراب کرتا ہے جو
(شکریہ اے زندگی
مرحبا اے موت کہنے کا بہانہ ہے مگر)
احتجاج اپنی موت پر کرنا نہیں
میں کھڑی ہوتی ہوں بانہیں کھول کر
رہ گزر میں موت کی ......
جب بھی شاخیں ٹوٹتی ہیں
فلم چرخی سے پھسل جاتی ہے اور
سسکیوں میں روشنی بجھتی ہے جب
بادلوں میں بجلیاں سی ہنستی ہیں
برف گرتی ہے، ٹریفک سے اٹی سڑکوں پہ جب،
میرے بدن پر
ہیڈ لائٹس چمکتی ہیں خدا کے سر کی صورت
یا کسی ٹوٹے ستارے کی طرح
ٹکٹکی سی باندھ کر
موت یا سورج کی جانب
دیکھنا ممکن نہیں
یہ کہا ......
لارشے فوکالڈ، نے
جو زیادہ تر محبت پر یقین رکھتا نہیں
میں مگر دیکھوں گی سورج کو مسلسل
اور نیچابھی دکھاؤں گی اسے