زِن اور فن شاعری
ترجمہ: سعید احمد
ذہن کو بھٹکنے دو
اور ہاں اجازت دو
سانس کو،قلم کو بھی
ایک اک تصور کو
منہ کے راستے سے وہ
روح میں اتاریں بھی
پھر کریں بیاں اس کا
پر سکون سے ہو کر
خاص اک تسلسل سے
مدوجزر کی صورت
جس طرح کنول آسن،
کوئی نرم پانی پر
بیٹھ جائے، اپنا کے
تھامنا قلم کا ہو
نرم ترکہ کاغذ پر
نقطہ بھی سیاہی کا
پڑ سکے بمشکل ہی
سانس، جھلملاتے سے
پسلیوں کے پنجرے میں
اور اس کو محبت ہے موسیقی سے
اور تو رات پڑھتا ہے وہ