ایریکا ژونگ

ایریکا ژونگ

ریڑھ کی ہڈی کے زائیلو فون پر

    ترجمہ:  سعید احمد

     

    دھن بجاتے ہیں کون و مکاں

    میرے فقرات کے زائلو فون پر

    سر بھرے تارے مہروں کو چھوتے ہوئے

    مرتعش کر رہے ہیں مجھے درمیان کمر

    خواہش جسم کی گونج سے

    دھن پہ نغماتِ افلاک کی

     

    گوشت جب ہڈیوں سے گرے گا تو سر

    اور واضح ہوں گے

    جلد مرجھائے گی

    روح اپنے سفر پر نکل جائے گی

    سر، ہوائے خزانی کی صورت کھلیں گے

    شکستہ سے جھڑتے ہوئے پات ہوں جس طرح

    یا ہماری زمیں پر چمکتے ہوئے پانیوں کی طرح

    دور سے دیکھتی ہے جنہیں

    ایک مخلوق ...... سنگیت سے جس کی تخلیق ہے

    آنکھ پر جو عیاں تک نہیں

    لمس بھی جس کا نا ممکنات

    کس کو یارا ہے اس سے ملاقات کا

    ہاں مگر جب اترتی ہے دھرتی پہ وہ

    ناتواں استخواں پر ہمارے

    کوئی دھن بجانے

    اس طرح سے تھم جائے

    حرف جیسے دل والی

     

    جس کا لیکن ایندھن بھی

    ایک سانس ہی تو ہے

    حرف جو قلم کے ہیں

    وہ بھی ہیں رضا دل کی

    اور ڈوب جاتی ہے

    ظلمتوں میں سب دنیا

    ہاں مگر ستاروں کے

    پختہ عزم سے نیچے