کیا زندگی ناقابل علاج بیماری ہے؟
ترجمہ: سعید احمد
تو کیا ممکن نہیں چارہ گری اس زندگی کی... ؟
کراہوں میں جنم لیتا ہے بچہ
مگر ہم خندہ کرتے ہیں ...
پہ جب مردہ لبوں پر مسکراہٹ رقص کرتی ہے
تو روتے ہیں
کہ ہم اس راستے سے ہچکچاتے ہیں
ہمیشہ ہچکچاتے ہیں
ہماری زندگی کو ابدیت میں جو بدلتا ہے
بلیک نے حمد گائی بستر مرگ پر
مری دادی ... بمشکل ہی جو شاعر تھی
کچھ ایسے مسکرائی موت پر اپنی
کہ اس سے قبل ہم نے مسکراہٹ اس کی ایسی تو
نہ دیکھی تھی...
ہمارا گوشت کاملبوس شاید ...
کسی مانوس کپڑے سے زیادہ کچھ نہیں ہے
جو ڈھیلا پڑتا جائے موت کی خوراک کھانے سے
جبھی شاید ... اسے ہم پھینک دیتے ہیں
نہیں تو بانٹ دیتے ہیں غریبوں میں
ابھی تک جو شناسا ہی نہیں ہیں
برہنہ پن کی نعمت سے ...