دانیال طریر

دانیال طریر

میرا کمرہ کبھی مندر بھی تو بن سکتا ہے

    رات بھر رات تک شاید کالے موسم کی ہوا دستکیں دیتی رہی دروازے پر اور میں کمرے کے اک کونے میں بیٹھا خاموش اُنگلیوں پر مری حیرانی کے دن گنتا رہا گنتی جو ختم نہیں ہوتی تھی آنکھیں کنڈی پہ جمائے ہوئے اس سوچ میں گم دست ِنادیدہ اگر کھول گیا بابِ طلسم جسم میں دوڑتا یہ خون ٹھہر جائے گا آنکھ کی روشنی کا لک میں بدل جائے گی خون کی دھند میں ڈھل جائے گی جنموں کی ریاضت میری میں وہیں بیٹھا کونے میں سوکھ جاؤں گا کسی بت کی طرح پھر کوئی داسی چرن چھونے چلی آئے گی