دانیال طریر

دانیال طریر

شاہ نامہ

    رات سونگھتی جائے جاگتی صداؤں کو بھاگتی ہواؤں کو راستوں کی وحشت کو منظروں کی حیرت کو رات سونگھتی جائے چاند کو، گھٹاؤں کو خوف کو، بلاؤں کو جھیل کے کناروں کو سب کے سب ستاروں کو رات سونگھتی جائے بے لباس سایوں کو اپنوں کو، پرایوں کو بستروں کو، جسموں کو روح کے طلسموں کو رات سونگھتی جائے کاغذوں کو ، لفظوں کو روشنی کی نظموں کو شیلف کی کتابوں کو شاعروں کے خوابوں کو رات سونگھتی جائے رات سونگھ لے جس کو تیرگی میں کھو جائے گہری نیند سو جائے آپ رات ہو جائے