دانیال طریر

دانیال طریر

قالوا بلیٰ

    فلک کو دیکھتا ہوں دھنک کے رنگوں اور اڑتی پتنگوں میں سفر آساں نہیں ہے کہ ان کے رنگ پکے اور مرے پر دودھ میں بھیگے ہوئے ہیں مجھے اپنے پروں کو داغ لگنے سے بچانا ہے کہیں دھندلاہٹوں کی سمت جانا ہے مگر جب تک گھنے بادل زمیں سے آسماں تک چھا نہیں جاتے میں پر پھیلا نہیں سکتا وہاں تک جا نہیں سکتا کہ آگے راہ میں پانی نہیں اور مجھے یہ حکم ہے بے داغ لوٹوں