شب گزیدہ
-
رات کا پہلا طلسم جسم میں جلتی ہوئی سانسوں کی آگ دوسرا خاموشیوں میں پھونکتے پھنکارتے زہریلے ناگ تیسرا وہ راگ جس پر رقص کرے ہیں ستارے جن میں لکھا ہے زمیں والوں کا بھاگ ادراک ہم جو ستارے توڑ بھی سکتے نہیں ہیں شب میں جینا چھوڑ بھی سکتے نہیں ہیں