اک اور اندھا کباڑی
خواب اٹھائے کیا پھرتے ہو خواب کے گاہک کب آئیں گے خواب کباڑ ہیں سخت پہاڑ ہیں خواب اٹھائے کیا پھرتے ہو کیوں پھرتے ہو تم جو زمانہ دیکھ رہے ہو یہ بازار ضرور ہے لیکن اس کا نظم و طور جدا ہے اس کا اپنا دین، پیمبر اور خدا ہے یہاں پہ کاروبار جمانا چاہتے ہو تو عورت بیچو عورت سب سے مہنگے داموں میں بکتی ہے وہ جس چیز کو چھو لیتی ہے اس کو سونا کر دیتی ہے اس کی چھون کو ڈھال بناؤ جتنا چاہے مال بناؤ صابن بیچنا ہو تو اس کے گال دکھاؤ شیمپو بیچنا ہو تو اس کے بال دکھاؤ روحوں کی بدبو کو گھٹانے والی تن مہکانے والی خوشبو بیچنی ہو تو اس کا جسم دکھاؤ اس کے سارے طلسم دکھاؤ سوئمنگ پول میں اس کے برہنہ جسم پہ پانی کی لرزش کرتی بوندوں کی جھلمل کو ہتھیار بناؤ ایک اور دو کے چار بناؤ عورت لے لو شاپنگ مال میں یہ آواز لگاکر دیکھو کتے، سور، گدھ اور کاگے سب آئیں گے اڑتے بھاگے دانت چباتے /رال گراتے چھوری گوری کسی کی چاہت کسی کی خواہش عمر میں چھوٹی تکہ تکہ بوٹی بوٹی مانگیں گے سارے بازاری مت لے جاؤ دل کی بھٹی خواب بریدہ خاک میں لتھڑے اعضا ٹیڑھے، صورت بھدی چھوڑو یہ سب ردی ودی عورت لے لو شاپنگ مال میں یہ آواز لگا کر دیکھو اس کے نازک ماس کے گاہک سب آئیں گے خواب اٹھائے کیا پھرتے ہو خواب کے گاہک کب آئیں گے